اگر سابق وزیراعظم نوازشریف کی اثاثے ظاہر نہ کرنے پر نااہلیت کے کیس میں لفظ ’’اثاثہ‘‘ کی وسیع تر تعریف کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے تو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جرسی میں قائم اپنی آف شور کمپنی اور اس سے کہیں زیادہ اہم اس سےوابستہ بینک اکائونٹ کا اعتراف دانستہ اثاثے چھپانے کاواضح ترین کیس ہے۔

ان دونوں کیسوں میں ایک اہم فرق یہ ہے کہ نوازشریف کے خلاف حق دار ہونے کے باوجود (2006سے مارچ 2013) تنخواہ نہ لینے کا الزام جب ان کے پاس کوئی عوامی عہدہ نہیں تھا، جبکہ آف شور کمپنی نیازی سروسز لمیٹڈ (این ایس ایل) اور اس سے وابستہ بارکلے بینک اکائونٹ اور این ایس ایل کے دیگر اکائونٹس جو وقت (2002، 2003، 2004 اور پھر 2012، 2013، 2014اور 2015) سے متعلق ہیں جب عمران خان قومی اسمبلی کے رکن تھے۔

این ایس ایل اکتوبر 2015 میں بند ہوئی (33 برس تک آپریشنل رہنےکے بعد) جبکہ پاناما پیپرز لیکس کی دستاویزات جو جرمن صحافی کو مئی /جون2015کو علم میں آئیں (این ایس ایل کی بندش کے 5ماہ بعد) اور آئی سی آئی جے سے وابستہ سیکڑوں صحافیوں نے آف شور کمشنیوں کے ڈیٹا پر کام شروع کیا۔ شریف خاندان کے ارکان نے توقبل از وقت محسوس کرتےہوئے آف شور کمپنیوںکی ملکیت کا اعتراف کیا۔ جبکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنی آف شور کمپنی کبھی ظاہر نہیں کی۔

تحریک انصاف کے سربراہ اور ان کےاکائونٹنٹ طاہر نواز سے بارہا استفسار کے باوجود آف شور کمپنی اور اس سے متعلق بینک اکائونٹس کی تفصیلات میڈیا اور عدالت عظمیٰ کو کبھی فراہم نہیں کی گئی۔ عمران خان کے بینک اکائونٹس کے حوالے سے منگل کو سپریم کورٹ میں سماعت کےدوران الجھن رہی۔

دی نیوز انوسٹی گیشنز کےمطابق عمران خان کی آف شور کمپنی این ایس ایل کے بینک اکائونٹس لندن نہیں بلکہ جرسی، چینل آئی لینڈز میں تھے جو آف شور کمپنیوں کی خطرناک حدود کےحوالے سے معروف ہے۔ عمران خان کا ذاتی اکائونٹ لندن میں تھا۔ آف شور کمپنی ظاہر نہ کرنےکے حوالے سے عمران خان کا دعویٰ تھا کہ آف شور کمپنی کی ملکیت میں ایک اثاثہ لندن فلیٹ جسے انہوں نے 2001 میں کالا دھن سفید کرنے کی اسکیم کے تحت ظاہر کردیا تھا۔ تحریک انصاف کے وکلاء عدالت عظمیٰ میں یہ کہتے رہے کہ آف شور کمپنی کا ایک اثاثہ ظاہر کیا گیا چونکہ کوئی اور اثاثہ نہ تھا اس لئے ظاہر بھی نہیں کیا گیا۔

دوران سماعت مخالف وکلاء نے عمران خان کو گھیرا کہ وہ بنی گالا اراضی کا منی ٹریل ظاہر کریں۔ عمران خان اسلام آباد میں ایک متمول بزنس مین راشد خان (جنہیں انہوں نے بینک آف خیبر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں مقرر کیا تھا۔) عمران خان نے دعویٰ کیا کہ درحقیقت ان کی سابقہ بیوی نے انہیں قرض دیا جو برطانیہ سے پاکستان میں راشد خان کے بینک اکائونٹ کے ذریعے رقم بھیجی گئی۔ اسی رقم سے بنی گالا اراضی کے لئے ادائیگیاں کی گئیں۔ بعدازاں عمران نے لندن فلیٹ کو فروخت کرکے اپنی سابق اہلیہ کا قرض اتار دیا۔ جسے ثابت کرنے کے لئے انہوں نے اپنے اکائونٹنٹ کے نام جرسی سے ایک خط بھی داخل کیا جس میں دکھایا گیا کہ رقم این ایس ایل کے بینک اکائونٹ (بارکلے بینک) سے عمران کی سابق اہلیہ کے اکائونٹ میں منتقل کردی گئی۔ جرسی سے سپریم کورٹ میں پیش کردہ خط میں کہا گیا ’’ہم تصدیق کرتےہیں کہ18اپریل 2003کوعمران خان سے ملنے والے خط میں جمائما خان کے اینگلو آئرش بینک میں 7مئی 2003کو ادائیگی کی درخواست کی گئی۔

یہی نہیں بلکہ دستاویز میں واضح طورپر ثابت ہوتا ہےکہ سابق اہلیہ کو ادائیگی کےبعد بھی آف شور کمپنی این ایس ایل کے بینک اکائونٹ میں ہزاروں پائونڈ اسٹرلنگ موجود ہیں جسے عمران خان نے ظاہر نہیں کیا۔ انہوں نے 2013 کے عام انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت حتیٰ کہ اپنی آف شور کمپنی کے آپریشنل ہونےکے اعلان سے بھی احتراز کیا اور پاناما پیپرز سامنے آنے سے قبل اکتوبر 2015 میں کمپنی بند کردی۔ عمران کی جانب سےداخل جواب کےمطابق انہوں نے لندن فلیٹ تمام اخراجات نکالنے کے بعد 690307پائونڈ اسٹرلنگ میں فروخت کردیا اور انہوں نے اپنی سابق اہلیہ کو 562415پائونڈ کی ادائیگی کردی۔

بینک اکائونٹ میں جو پیسے بچے وہ 127892پائونڈز تھے۔ صاف طورپر اس کا شمار اثاثے میں ہوتا ہے۔ افتخار احمد چیمہ ایم این اے کو اثاثے ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دیئے جانے کی سزا سے اتفاق نہ کرتےہوئے سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے ایک اصول طے کردیا کہ جو اپنے ادنیٰ سے اثاثے بھی ظاہر نہیں کرتا وہ بددیانت ہے اور آئین کے تحت نااہل قرار دیا جائے گا۔ اب سپریم کورٹ کی تین رکنی بنچ عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف اس واضح کیس کی سماعت کررہی ہے۔نواز شریف نے تو تسلیم کیا اس کے برعکس عمران نے نہیں مانا تاوقتیکہ جنگ گروپ نے انہیں اسے بے نقاب کیا جس کے بعد انہیں نے تسلیم کیا۔

Share and Enjoy !

0Shares
0 0