عاصم کے کمانڈر سدرن کمانڈ بننے کے بعد انکے بیٹوں نے باکمال ترقی کی۔

پہلے  امریکہ اور پھر پاکستان میں باجوہ خاندان کی کاروباری سلطنت کا پھیلائو اور جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی  فوج میں اہم عہدوں پر ترقی، دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلیں۔ فیکٹ فوکس کی چار مختلف حکومتوں  کی سرکاری دستاویزات پر مبنی رپورٹ۔

جنرل (ر) عاصم باجوہ آج کل چین کے تعاون سے چلنے والے بہت بڑےانفراسٹرکچر  کے منصوبے چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (سی پیک)  کے چئیرمین اور وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ہیں۔

عاصم باجوہ کے بھائی  نے امریکہ کی معروف فوڈ چین پاپا جونز کے پہلے ریسٹورنٹ سن دو ہزار دو میں قائم کیے۔ اسی سال جنرل (ر) عاصم باجوہ  کی جنرل پرویز مشرف کے اسٹاف آفیسر کے طور پر تعیناتی ہوئی۔

ندیم باجوہ، جنہوں نے اپنے کاروباری سفر کا آغاز پاپا جونز  پیزا ریسٹورنٹ میں بطور ڈیلیوری ڈرائیور  کیا تھا، اب ان کے بھائیوں اور عاصم باجوہ کی اہلیہ اور بچوں کی چار ممالک میں نناوے کمپنیاں اور ایک سو تیتیس فعال فرینچائز ریسٹورنٹس، جن کی موجودہ مالی حثیت تقریبا چالیس ملین ڈالر (چھ سو ستر کروڑ پاکستانی روپے)، ہیں۔

ایسے وقت میں جب عاصم باجوہ اور ان کا ڈیپارٹمنٹ لوگوں کو معاشی بھنور میں پھنسے پاکستان میں کاروبار کرنے کی ترغیب دے رہا تھا، ان کی بیوی اور بھائیوں نے باون اعشاریہ دو ملین ڈالر (آٹھ سو چھتر کروڑ) سے زائد کی سرمایہ کاری سے دو انٹرنیشنل فوڈ چینز کے تین ممالک میں ایک سو چوہتر فرینچائز ریسٹورنٹ قائم کیے اور امریکہ میں چودہ اعشاریہ پانچ ملین ڈالر (دو سو ترتالیس کروڑ) کی کمرشل اور رہائشی جائیدادیں بنائیں۔ یوں ایک ہزار ایک سو انیس کروڑ کی سرمایہ پاکستان سے باہر کی گئی۔ اس وقت ایک سو تیتیس فرینچائزز فعال ہیں۔

جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ  کی اہلیہ اور ان کے بیٹوں نے  پاکستان اور امریکہ میں ان  کاروباروں میں شمولیت اختیار کی، اہلیہ کی امریکہ کینیڈا اور متحدہ عرب امارات میں چلنے والے کاروباروں اور ان بزنسز کی پراپرٹیز میں برابر کی ملکیت ہے۔ لیکن عاصم سلیم باجوہ  نے وزیراعظم پاکستان کے معاون خصوصی بننے کے بعد جمع کروائی گئی اپنے اثاثہ جات کی فہرست میں اپنی بیوی کے پاکستان سے باہر بزنس کیپیٹل کا ذکر نہیں کیا۔ بلکہ متعلقہ کالم باقائدہ "نہیں ہے” لکھا۔

عاصم سلیم باجوہ کے وزیر اعظم عمران خان کے معاونِ خصوصی کے طور پر جمع کروائی گئے اثاثہ جات کے حلفیہ بیان کے متعلقہ حصوں کا عکس

خاندان کا پس منظر

باجوہ خاندان چھ بھائیوں اور تین بہنوں پر مشتمل ہے جن کا تعلق جنوبی پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر کے خوشحال مگر مڈل کلاس گھرانے سے تھا۔

ان کے والد محمد سلیم باجوہ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے اور انھوں نے (انیس سو پچاس) کے اوائل میں سرکاری نوکری شروع کی اور پھر (انیس سو  ساٹھ) میں صادق آباد میں قائم  ملت ہسپتال نامی ایک نجی ہسپتال میں شمولیت اختیار کر لی۔ انہیں پچیس نومبر انیس سو چھتر کو کراچی ایکسپریس پر سفر کے دوران نامعلوم افراد نے قتل کر دیاتھا۔

وفات کے وقت سلیم باجوہ کے اثاثہ جات میں زرعی زمین، صادق آباد شہر میں کچھ دوکانیں، ایک دواساز کمپنی میں شیئرز اور ایک گھر تھا۔

سلیم باجوہ کے بڑے دو بیٹے تنویر اور طالوت والد کیطرح ڈاکٹر بن گئے اور پنجاب کے مختلف شہروں میں پریکٹس کی۔ تیسرے بیٹے عاصم باجوہ نے انیس سو چراسی میں فوج میں شمولیت اختیار کر لی۔ دو بھائی ندیم اور فیصل پنجاب یونیورسٹی سے اپنی تعلیم مکمل کر کے انیس سو نوے کی دہائی کے اوائل میں امریکہ  چلے گئے۔
سب سے چھوٹا بھائی عبدالمالک بھی ( دو ہزار دو) میں امریکہ چلا گیا۔

مختلف ممالک کے کاروبار کا نظام چلانے کیلیے بننے والی پیرنٹ کمپنی

دو ہزار سات میں جب اس وقت کے ملٹری ڈکٹییٹر  جنرل(ر) پرویز مشرف نے عاصم باجوہ کو برگیڈئیر کے عہدہ پر ترقی دی تو  باجوہ فیملی کے تمام کاروباروں کو ‘باجکو گلوبل مینیجمنٹ ایل ایل سی‘ نامی ایک کمپنی کے زیرِ سایہ لایا گیا اور اس کمپنی کو کی ریاست اوہایو میں رجسٹر کروایا گیا جبکہ دو ہزار آٹھ میں لاہور میں اس کمپنی کا مددگار دفتر قائم کیا گیا۔

باجکو گلوبل مینیجمنٹ ایل ایل سی کی رجسٹریشن دستاویزات، جو کہ  امریکی ریاست اوہایو کے سیکریٹری آف سٹیٹ کے ریکارڈ کا حصہ ہیں، سے یہ بات سامنے آتی  ہی کہ جنرل (ر) عاصم باجوہ کی اہلیہ فرخ زیبا  باجکو گروپ کے تمام کاروباروں میں  اپنے شوہر کے پانچ بھائیوں کے ساتھ برابر کی حصہ دار اور مالک ہیں۔

باجکو گروپ کے شیئرز کی برابر کی تقسیم کے معائدے کا عکس

شیئرز کی تقسیم، دستخطوں والے صفحے کا عکس

جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے بیٹوں نے  باجکو گروپ میں ( دو ہزار پندرہ) میں شمولیت اختیار کی اور پاکستان اور امریکہ میں باجکو گروپ کےعلاوہ مزید نئی کمپنیوں کی بنیاد اس وقت رکھی  جب جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر  اور پھر کمانڈر  سدرن کمانڈ بلوچستان تھے۔

فرخ زیبا ایک ہاوس وائف ہیں اور ظاہری طور پر انہیں کوئی کاروباری تجربہ نہیں ہے۔
عاصم باجوہ نے وزیر اعظم کا معاون خصوصی بننے کے بعد بائیس جون کو اپنے اثاثہ جات کی ڈیکلیریشن حلفیہ دستخط کی جس میں انہوں نے اپنی بیوی کے نام پر صرف ایک اثاثہ اکتیس لاکھ روپے کی انوسٹمنٹ ظاہر کیا۔ جس کالم میں عاصم باجوہ سے انکی یا انکی اہلیہ کی بیرونِ ملک جائیداد کے بارے میں پوچھا گیا، عاصم باجوہ نے جواب کہ "نہیں ہے”۔ ایک دوسرے کالم میں جہاں عاصم باجوہ سے واضح انداز میں انکے یا انکی اہلیہ کے پاکستان سے باہر کاروباری سرمایہ کے بارے میں پوچھا گیا، اس کا جواب بھی عاصم نے حلفیہ طور پر "نہیں ہے” دیا۔ اثاثہ جات کی اس ڈیکلیریشن آغاز میں اپنے اور اپنی بیوی اثاثہ جات بتانے کا کہا گیا تھا۔ اس ڈیکلیریشن کے اختتام پر ایک مرتبہ پھر عاصم باجوہ سے تصدیق چاہی گئی تو انہوں نے ان الفاظ میں تصدیق کی، "میں لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ ولد محمد سلیم باجوہ، حلفیہ اقرار اور تصدیق کرتا ہوں کہ میرے علم اور مکمل یقین کے مطابق اوپر دی گئی میری، میری بیوی کی اثاثہ جات کی فہرست نہ صرف مکمل اور درست ہے بلکہ میں نے کوئی چیز نہیں چھپائی۔”

تاہم فیکٹ فوکس نے امریکی حکومت کی جو سرکاری  دستاویزات حاصل کیں ان کے مطابق عاصم باجوہ کی اہلیہ فرخ زیبا پاکستان سے باہر (امریکہ میں) تیرہ کمرشل جائیدادیں جن میں دو شاپنگ سنٹر بھی شامل ہیں کی مشترکہ مالک ہیں اور امریکہ، کینیڈا اور متحدہ عرب امارات میں بیاسی کمپنیوں (پاکستان سے باہر بزنس کیپیٹل) جن کے سرمایہ کی موجودہ کل مالیت تقریباً چالیس ملین ڈالر (چھ سو ستر کروڑ) ہے، کی عاصم باجوہ کے بھائیوں کے ساتھ برابر کی مالکن ہیں۔

فیکٹ فوکس کمپنیز ڈیٹا بیس، بمعہ تمام متعلقہ دستاویزات

………………………..

جب فیکٹ فوکس نے عاصم باجوہ سے ان کی بیوی کے نام یا انکی بیوی کی مشترکہ ملکیتی کمپنیوں کے امریکہ میں بنک اکائونٹس اور ان میں موجود رقم کے حوالے سے متعلق سوال کیا اور پوچھا کہ انہوں اپنے اثاثہ جات کی ڈیکلیریشن میں اپنی بیوی کے حوالے سے واضح طور یہ کیوں لکھا کہ انکا پاکستان سے باہر کوئی کاروباری سرمایہ نہیں ہے تو جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ نے جواب سینے سے گریز کیا۔

فیکٹ فوکس کی تحقیقات کے دوران سب سے اہم پیش رفت یہ ہوئی کی سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے

تیزی سے تبدیل ہوتی ویب سائیٹس

ادارے جو کہ پاکستان میں کاروباری کمپنیوں کے نظام کو ریگولیٹ کرتا ہے  نے اپنی آفیشل ویب سائٹس سے  جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ   کے بیٹوں  کی ملکیتی کمپنیوں کا ڈیٹا غائب کرنا شروع کر دیا۔  فیکٹ فوکس کے پاس سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمییشن کی جانب سے اس کاروباری ڈیٹا  میں کی جانے والی تبدیلیوں کے مکمل شواہد موجود ہیں۔

جب سوشل میڈیا پر باجوہ برادرز کے کاروباروں پر سوال اور اٹھائے گئے اور فیکٹ فوکس کی طرف سے باجکو گروپ کے صدر عبدالمالک باجوہ کو انکے اور انکے بھائیوں کے اور جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ  کو ان کی بیوی کے کاروباروں اور ان پر کی جانے والی انوسٹمنٹ کے بندوبست کی تفصیلات کے حوالے سے جب سوال  پوچھے تو جواب تو نہیں دیا گیا مگر باجکو گروپ کی ویب سائٹ منظرِ عام سے غائب کر دی گئی اور پھر مکمل طور پر  نئی تفصیلات کے ساتھ بحال کی گئی۔

باجکو گروپ کی ویب سائٹ پر  دی جانے والی  کاروباری تفصیلات میں پاپا جونز پیزا ریسٹورنٹ کی امریکہ اور کینیڈا میں صرف  (اٹھاون) شاخوں کی تفصیلات  دی گئی  تھیں جبکہ رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں سرمایہ کاری کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ اپ ڈیٹ ہونے کے بعد مذکورہ ویب سائٹ پر پہلی طرف   رئیل اسٹیٹ میں کی گئی سرمایہ کاری کو  جزوی طور پر منظرِ عام پر لانا شروع کر دیا۔ فیکٹ فوکس باجکو گروپ کی  رئیل اسٹیٹ میں  کی جانے والی   سرمایہ کاری کی مکمل تفصیلات منظرِ عام پر   لا رہا ہے۔

ریسٹورنٹ فرنچائزز قائم کرنے کی سالانہ تفصیلات بمعہ تخمینہ لاگت

باجکو گروپ کی امریکہ میں قائم کی گئی فرنچائزز کی مکمل تفصیلات کیلیے یہاں کلک کریں۔

…………………………..

اپ ڈیٹ ہونے ویب سائیٹ میں باجکو گروپ کی پاکستان میں سرمایہ کاری کا بھی پچیس اگست تک کوئی ذکر نہیں۔ جبکہ پاکستان میں باجکو گروپ کی سرمایہ داری   ٹیلی کام  اور مزدوروں اور ہیومن ریسورس کی فراہمی کے شعبہ پر مشتمل ہے۔
فیکٹ فوکس کی تحقیقات کا آغاز ہونے کے باجکو گروپ کی ویب سائیٹ کس طرح تبدیل ہوئی، فیکٹ فوکس نے اس کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا مگر قارئین باجکو گروپ کی پرانی ویب سائٹ کا جائزہ معروف آرکائوز ویب سائیٹ ‘آرکائیو ڈاٹ او آر جی’، جو کہ ویب سائیٹس میں ہونے والی تبدیلیوں کا ریکارڈ محفوظ کرتی ہے،  کے مندرجہ ذیل لنک سے لے سکتے ہیں۔

باجوہ فیملی کے سوشل میڈیا پر جوابات

باجکو گروپ کے صدر عبدالمالک  باجوہ، جو کہ جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کے بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں، نے اپنے ٹوئیٹر اکاونٹ پر یہ وضاحت دی ہی کہ باجکو گروپ کے کاروبار سے جنرل (ر) عاصم باجوہ اور ان کے بیٹوں کا کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔

عبدالمالک باجوہ کی اپنی فراری کے ساتھ تصویر

……………………………


جبکہ حقائق اس دعوٰی سے بالکل مختلف ہیں۔ فیکٹ فوکس نے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے جو سرکاری دستاویزات حاصل کیئں وہ اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ عاصم سلیم باجوہ کا ایک بیٹا باجکو گروپ کمپنیز سے منسلک ہے۔ مزید برآں جنرل (ر) عاصم باجوہ کی بیوی، فرخ زیبا باجکو گلوبل مینیجمنٹ کمپنی جس کے زیرِ سایہ باجکو گروپ کمپنیز اپنا کاروبار کرتی ہیں، میں عاصم سلیم باجوہ کے پانچ بھائیوں کے ساتھ برابر کی شراکت دار ہیں اور امریکہ، کینیڈا اور دیگر غیر ملکی کمپنیوں میں (چوراسی) کمپنیوں کی  ملکیت رکھتی ہیں۔  
دستاوویزی ثبوت باجکو گروپ کے صدر عبدالمالک باجوہ کے ٹویٹر پہ دیئے گئے دونوں   دعووں کی مکمل تردید کرتے ہیں۔

بھارت کا سی پیک پر حملہ اور خفیہ ایجنسی را کی سازشیں

جب جنرل (ر)  عاصم سلیم باجوہ  کے خاندانی کاروبار کے  متعلق سوالات پوچھے گئے تو یکدم سوشل میڈیا پر ایک مہم کا آغاز کیا گیا جس کے تحت سوالات پوچھنے والوں کا  تعلق انڈین انٹیلی جینس ایجنسی را سے  جوڑا گیا اور  جنرل (ر) عاصم باجوہ کے خاندان کے کاروبار پر سوال اٹھانے کو سی پیک پر حملہ اور ہندوستان کی سازش قرار دیا گیا۔

امریکہ میں کمرشل جائیدادیں اور رئیل اسٹیٹ کمپنیاں

رہائشی جائیدادوں کے علاوہ، باجوہ خاندان کے ملکیتی کاروباروں نے پچھلے چھ سالوں میں تیرہ کمرشل پراپرٹیز بھی خریدیں۔ پچھلے چند سالوں میں باجکو گروپ نے ونچر فنڈنگ اور انٹرنشنل انوسٹمنٹ کمپنیز بھی قائم کیں۔ ‘باجکو’ نام کے علاوہ، باجکو گروپ کے زیرِ اثر ہی جالکو، ایس بی گلوبل انوسٹمنٹس، بی آر وی ہولڈنگ اور ‘بی آر وی’ کے نام سے مختلف کمپنیاں انوسٹمنٹس اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں قائم کی گئیں۔

کمپنیز، فرنچائزز اور پراپرٹیز کی سال بہ سال ترقی کا گراف

گراف لائن کے اوپر جائیے اور متعلقہ سال کی تفصیلات دیکھیے۔ بہتر ہے دائیں طرف نیچے دیے گئے بٹن سے گراف کا مشاہدہ کریں۔

………………………………

بیوی، بیٹوں اور پاکستان میں بھائیوں کی مزید سرمایہ کاری

جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ تین بیٹے محمد، یوشع اور عازب مائننگ، شعبہِ تعمیرات، مارکیٹنگ، مشروبات، رئیل اسٹیٹ، فیشن اور کاسمیٹکس بنانے والی مختلف کمپنیوں کے بلا شرکتِ غیرے مالک ہیں۔ یہ کمپنیاں پاکستان میں کاروبار کرتی ہیں اور تین کمپنیاں امریکہ میں کاروبار کرتی ہیں جو کہ رئیل اسٹیٹ کے شعبہ سے منسلک ہیں۔ عاصم باجوہ کے بیٹوں کے یہ کاروبار عاصم باجوہ کی بیوی اور انکے بھائیوں کے مشترکہ کاروبار باجکو گروپ سے علاوہ ہیں۔ بیٹوں یہ تمام کاروبار تب قائم کیے جب عاصم باجوہ یا تو ڈی جی آئی ایس پی آر تھے یا کمانڈر سدرن کمانڈ تھے۔

جنرل(ر) عاصم سلیم باجوہ کی اہلیہ فرخ زیبا پاکستان میں موجود باجکو گروپ کے کاروبار باجکو ٹیلی کام اور فاسٹ ٹیلی کام میں برابر کی حصہ دار ہیں ۔

یہ خاندان محنت اور افرادی  قوت کی فراہمی کے شعبہ سے بھی منسلک ہے۔ اس شعبہ میں ان کی کمپنی کا نام  سِلک لائن انٹرپرائزز  ہے جس کے مالک عاصم سلیم باجوہ کے بھائی ڈاکٹر تنویر، ڈاکٹر طالوت  اور ڈاکٹر طالوت کا بیٹا ہیں۔ مزدور اور افرادی قوت فراہم کرنے والی یہ کمپنی عاصم باجوہ کے پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر بھائیوں نے اس وقت قائم کی  جب عاصم بلوچستان میں کمانڈر سدرن کمانڈ تھے۔ ڈاکٹر طالوت کے بیٹے عمار سلیم باجوہ رائے عامہ  جانچنے کیلئے سروے کروانے والی کمپنی ٹرانسنڈنٹ کے بھی مالک ہیں۔ اس حوالے سے کہ کیا یہ کمپنی ٹرانسنڈنٹ تب بنی جب وہ ڈی جی آئی ایس پی آر تھے، عاصم باجوہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔  کوشش کے باوجود، فیکٹ فوکس کا ڈاکٹر تنویر اور ڈاکٹر طالوت (جو مشرف دور میں صادق آباد کے تحصیل ناظم بھی بنے)، سے رابطہ نہ ہو سکا۔

باجکو گروپ سے ہٹ کر جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے تین بیٹے پاکستان میں مندرجہ زیل کمپنیوں کے مالک ہیں۔
کریپٹون جو کہ مائننگ کے شعبہ سے منسلک ہے، ہمالیہ واٹرز (۔۔۔ہمالیہ واٹرز۔۔۔) مشروبات کی کمپنی ہے، موچی کارڈوینرز اور ایملز ایلیور فیشن اور کاسمیٹکس بنانے اور رٹیل کی کمپنیاں ہیں۔ ایڈوانسڈ مارکیٹنگ نامی کمپنی مارکیٹنگ سے منسلک ہے۔ سائن بلڈرز اینڈ اسٹیٹس اور سائن بلڈرز ایل ایل پی ایل ایل پی ایل ایل پی رئیل اسٹیٹ کی کمپنیاں ہیں۔ سائن بلڈرز اینڈ اسٹیٹس کروڑوں مالیت کے فارم ہائوسز ڈویلپ کرتی ہے۔

سائن بلڈرز اینڈ اسٹیٹس کے سوشل میڈیا پیج کا عکس

……………………………

یہ تمام کمپنیاں (دو ہزار پندرہ) کے بعد قائم کیں گئیں جب جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ  ڈی جی ٓائی ایس پی آر تھے اور پھر کمانڈر سدرن کمانڈ۔
یہ بات ذہن نشین رہے کہ معدنی وسائل سے مالا مال  بلوچستان کے حوالے سے کمانڈر سدرن کمانڈ کا عہدہ  نہایت اہم ہے۔

جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے دو بڑے بیٹوں یوشع سلیم باجوہ اور محمد سلیم باجوہ  نے  امریکہ  بھی کمپنیز قائم کیں ہیں جن میں سے ایک ہائپر ڈرائیو سولوشنز  کے نام سے ہے جو کہ (دو ہزار پندرہ) میں  قائم کی گئی جب عاصم سلیم باجوہ ڈی جی آئی ایس پی آر کے عہدے پر تھے۔ اس کے علاوہ سائن مینیجمنٹ گروپ نام کی کمپنی دو ہزار اٹھارہ میں قائم کی گئی جب عاصم سلیم باجوہ کمانڈر سدرن کمانڈ تھے اور سائن نیچرا نام کی کمپنی دو ہزار بیس میں قائم کی گئی۔

لیفٹینٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کی بیوی اور بیٹوں کی کمپنیوں میں سالانہ اضافے کا گراف
اورنج لائن بیوی سے متعلق کمپنیوں میں سالانہ اضافے کو ظاہر کرتی ہے جبکہ نیلی لائن دوہزار پندرہ اور اسکے بعد بیٹوں کی متحدہ عرب امارات، پاکستان اور امریکہ میں کمپنیوں میں اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔

…………………………………….

جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ کے بیٹے محمد کا نام اپنے چچا عبدالمالک باجوہ کے نام کے ساتھ باجکو گروپ کی متحدہ عرب امارات میں سات رجسٹرڈ شدہ کمپنیوں میں سے تین کی رجسٹریشن دستاویزات میں  موجود ہے۔ یہ کمپنیاں (دو ہزار پندرہ) اور  (دو ہزار سولہ) میں قائم کیں گئیں جب عاصم سلیم باجوہ  ڈی جی آئی ایس پی آر کے عہدے پر فائز تھے اور ایک کمپنی (دو ہزار انیس)  میں قائم کی گئی جب  عاصم سلیم باجوہ کو رکمانڈر سدرن کمانڈ تھے۔

عاصم باجوہ کے بیٹے یوشع باجوہ کا نام (دو ہزار اٹھارہ) سے  باجکو گروپ کی  امریکہ میں قائم  پانچ مختلف کمپنیز کے سالانہ گوشواروں میں بطور آتھورائزڈ  ایجنٹ کے منظرِ عام پر آنا شروع ہوا۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس سے پہلے ان کاغذات میں بطور آتھورائزڈ ایجنٹ ندیم باجوہ کا نام آتا تھا۔ تاہم باجکو گروپ سے منسلک کسی کمپنی کی دستاویزات میں یوشع کا نام بطور ممبر یا منیجنگ ممبر نہیں آتا۔

امریکی ریاست اوہائیو کی سرکاری دستاویزات دکھاتی ہیں کہ یوشع باجوہ نے جون اور اگست دو ہزار اٹھار میں امریکہ کے شہروں کینفیلڈ اور ینگز ٹائون میں دو گھر اس وقت خریدے جب جنرل (ر) عاصم باجوہ کمانڈر سدرن کمانڈ تھے۔

بیٹے یوشع سلیم باجوہ کا کینفیلڈ، اوہایو، امریکہ میں گھر

یوشع باجوہ جو کہ امریکہ اور پاکستان میں باجوہ خاندان کی کمپنیز اور جائیددادوں میں سب سے زیادہ حصہ دار ہیں نے خود کو کبھی بھی پاکستان میں بطور  ٹیکس دہندہ  ایف بی آر کے ساتھ رجسٹر نہیں کروایا۔

عاصم باجوہ کی والدہ فضیلت مآب  کئی دہائیوں سے شیریکس لیبارٹریز نامی فارماسیوٹیکل کمپنی میں شیئرز رکھتی ہیں جن کی موجودہ تعدا پانچ ہزار شئیرز ہے جو کہ کمپنی کے کل شیئرز کا پانچ فیصد ہیں۔ آیف بی آر کے ریکارڈ کے مطابق یہ شئیرز کبھی بھی انکے نام سے ڈیکلیئر نہیں کیے گئے۔ باجوہ فیملی کے مختلف افراد کے ماضی میں شیریکس کمپنی میں معمولی شیئرز رہے جو وہ ٹرانسفر کرتے یا بیچتے رہے، اس وقت تنویر سلیم باجوہ کے بھی ایک ہزار شیئرز ہیں۔ فیکٹ فوکس نے شیریکس کمپنی کو کمپنیز کی ڈیٹابیس میں شامل نہیں کیا کیونکہ عاصم باجوہ کی فیملی اسکی مالک نہیں اور مختلف فیملی ممبرز کے ہمیشہ معمولی شیئرز رہے۔

جنرل (ر) عاصم باجوہ کی فوج میں مختلف اہم عہدوں پر تعیناتیوں کے دوران ان کے خاندان نے جو مختلف کمپنیاں بنائیں، انکے ذریعے مختلف انوسٹمنٹس کیں، جائیدادیں خریدیں، انکی عددی تفصیل کچھ یوں ہے

1984 – 2001

عاصم باجوہ: فوج میں سیکنڈ لیفٹیننٹ سے لیفٹیننٹ کرنل بنے
باجوہ خاندان: کوئی قابلِ ذکر سرمایہ کاری یا مکمل ملکیتی کمپنی نہیں۔

2002 — 2008

عاصم باجوہ: ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے ساتھ انکے اسٹاف آفیسر اور پھر کمانڈر ٹرپل ون بریگیڈ نے۔
باجوہ خاندان:  تقریبا (سولہ) ملین ڈالرز کی لاگت سے  ترپن  پیزا فرینچائزز قائم کی گیں۔ امریکہ میں بیس، پاکستان میں دو اور کینیڈا میں چار کمپنیاں رجسٹر کروائی گیں۔

2009 — 2011

عاصم باجوہ: مشرف کے کام کرنے کے بعد بطور برگیڈئر ایک کور کمانڈر کے سٹاف آفیسر اور پھر میجر رنل کے عہدے پر ترقی کے بعد جی او سی ڈیرہ اسماعیل ڈسٹرکٹ کمانڈر تعینات رہے۔
باجوہ خاندان: سات اعشاریہ پانچ ملین ڈالر کی لاگت سے پچیس فرینچائزز قائم کیں۔ اس کے علاوہ امریکہ میں صرف پانچ کمپنیاں قائم کی گیں جبکہ ایک رہائشی جائیداد خریدی گئی۔

2012 — 2016

عاصم باجوہ: ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کے عہدے پر تعینات ہوتے ہیں۔
باجوہ خاندان: بائیس اعشاریہ پانچ ملین ڈالرز کی مالیت کی پچھتر فرینچائزز قائم ہوتی ہیں۔ امریکہ میں چونتیس، پاکستان میں تین اور متحدہ عرب امارات میں چھ کمپنیاں قائم ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ  امریکہ میں تین اعشاریہ ایک چھ ملین ڈالر کی لاگت سے سات کمرشل اور دو رہائشی جائیدادیں خریدیں گئیں۔ عاصم باجوہ کے بیٹوں نے باجکو گروپ سے علاوہ اریکہ اور متحدہ عرب امارات میں کمپنیاں قائم کرنا اس عرصے میں شروع کیا۔

2017 — 2020

عاصم باجوہ: پہلے آئی جی آرمز اور پھر کمانڈر سدرن کمانڈ تعینات ہوئے۔
باجوہ خاندان: چھ اعشاریہ تین  ملین ڈالر کی اکیس فرینچائزز قائم ہوئیں، اس وقت قائم ہونے والی فرنچائزز میں سے کچھ چند ماہ پہلے بند ہوئیں۔ امریکہ میں سترہ،  پاکستان میں سات، متحدہ عرب امارات میں ایک  نئی کمپنی کا قیام  ہوا۔ سات اعشاریہ پانچ ملین ڈالر کی لاگت سے امریکہ میں چھ کمرشل اور دو رہائشی جائیدادیں خریدی گئیں۔ اس عرصے میں عاصم باجوہ کے بیٹوں نے پاکستان میں کمپنیاں قائم کرنے اور امریکہ میں  جائیدادیں خریدنا شروع کیا۔ ان چھ کمرشل جائیدادوں میں سے ایک پر کمرشل سنٹر تعمیر ہونے کے بعد اس عرصے میں قائم کی گئی کمرشل اور رہائشی جائیدادوں کی کل قیمت گیارہ اعشاریہ دو ملین ڈالرز ہو گئی۔ اسی عرصے میں عاصم باجوہ کے بڑے بیٹے نے امریکہ اور پاکستان میں کمپنیاں بنانے اور جائیدادیں خریدنی شروع کیں۔ اس دوران امریکہ میں خریدی گئی دونوں رہائشی جائیدادیں عاصم باجوہ کے بیٹے یوشع سلیم باجوہ نے خریدیں۔

باجوہ فیملی امریکہ میں خریدی گئی رہائشی اور کمرشل جائیدادوں کی تفصیلات بمعہ دستاویزات

……………………………..

لیفٹینٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی مختلف عہدوں پر تعیناتی کے دوران خاندان کی کمپنیوں، فرنچائزز اور پراپرٹیز میں ہونے والے اضافے اور انوسٹمنٹس کی تفصیلات کا گراف، گراف بارز کے اوپر جا کر آپ کسی بھی پوسٹنگ کے دوران کی مکمل تفصیلات دیکھ سکتے ہیں یا گراف میں دائیں طرف اوپر دیے گئے ڈراپ ڈائون مینیو میں سے پوسٹنگ کا کوئی ایک دور منتخب کر کے اس دور کی تفصیلات دیکھ سکتے ہین۔

………………………….

اس لنک پر دیے گئے ٹیبل میں مجموعی انوسٹمنٹس کی تفصیلات درج ہیں۔

………………………….

عاصم باجوہ کے ستمبر (دو ہزار انیس) سے فوج سے ریٹائر ہونے کے بعد سے  باجکو گروپ  نے کسی قسم کی کوئی نئی کمپنی نہیں بنائی البتی ان کے بیٹوں نے امریکہ میں ایک اور پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کی ایک کمپنی قائم کی۔

……………………………..

یہ ٹائم لائن پچھلے تقریباً ستر سال میں ہوئی باجوہ فیملی کے حوالے سے ہوئے اہم واقعات کو مختصر انداز میں پیش کرتی ہے۔ ٹائم لائن کو مکمل سکرین پر دیکھنے کیلیے فل سکرین کا بٹن دبائیں۔


……………………………

ایڈیٹر نوٹ

کاروبار کی شروعات میں کی گئی سرمایہ کاری
باجکو گروپ نے پہلی دو فرینچائزز دو ہزار دو میں قائم کیں، دو ہزار تین میں مزید دس فرنچائزز قائم کرنے کا معائدہ کیا گیا مگر دو ہزار چار میں تین فرنچائزز خریدی گئیں۔ اوپر بیان کیے گئے اندازے کے مطابق ان ابتدائی پانچ فرنچائزز کیلیے ایک اعشاریہ پانچ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی
باجکو گروپ کی طرف سے ہمیں ان سوالوں کے کوئی جواب نہیں دئیے گئے کہ اس ابتدائی سرمایہ کاری کیلیئے پیسے کہاں سے لائے گئے اور اس کے بعد کی گئی سرمایہ کاری کو کیسے ممکن بنایا گیا؟ دو ہزار چھ اور دو ہزار سات میں باجکو گروپ نے بیس فرینچائزز قائم کیں اور پھر دو ہزار آٹھ میں مزید  اٹھائیس فرینچائزز کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ہمارے اندازے کے مطابق پاپا جونز ریسٹورنٹس کی ان اڑتالیس فرینچائزز  قائم کرنے کیلئے چودہ اشاریہ چار ملین ڈالر کی رقم درکار تھی۔
باجکو گروپ کے صدر عبدالمالک باجوہ نے فیکٹ فوکس کو تو جواب نہیں دیا مگر اپنے ٹویٹر اکاونٹ سے کی گئی ٹویٹ میں لکھا کہ  زیادہ تر سرمایہ کاری بینکوں سے لیئے گئے قرضوں سے کی گئی اور کچھ دوستوں سے مدد لی گئی۔ تاہم عبدالمالک باجوہ نے ان بنکوں کی تفصیلات مہیا نہیں کیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق باجکو گروپ کو ملنے والی قابلِ ذکر مالیاتی سہولت سن دو ہزار گیارہ مین نو اعشاریہ پانچ ملین ڈالر جی ای سے ملی جن سے دوہزار سو میں پیسے لیے گئے۔ دوسری طرف، کمپنیوں کی دستاویزات میں کسی بھی کاروبار میں عاصم باجوہ کی بیوی، بھائیوں یا بیٹوں کے علاوہ کسی شخص کا حصہ ہونے کا پتا نہیں چلتا۔

باجوہ خاندان کے کاروبار کے مالیاتی ریکارڈ
باجوہ خاندان کی امریکہ، پاکستان، متحدہ عرب امارات اور کینیڈا میں نناوے کمپنیز کی ملکیت آفیشل ریکارڈ سے ثابت ہے جن کے تمام ثبوت موجود اور محفوظ ہیں۔ فیکٹ فوکس پاکستان میں موجود ان  چھ کمپنیوں کے قیام کی تاریخ معلوم نہیں کر سکا۔ ان کمپنیوں کے نام کریپٹون، ٹرانسنڈنٹ، ایملز ایلیور، عمار انجینئرنگ، باجکو ٹیلی کام اور فاسٹ ٹیلی کام ہیں۔ نیچے دیے گئے کمپنیز کے ڈیٹا میں ان کمپنیوں کے قائم ہونے کی جو تاریخ دکھائی گئی ہے وہ واقعاتی شہادتوں کی مدد سے لی گئی ہے۔ تاہم باجکو ٹیلی کام اور فاسٹ ٹیلی کام کےبارے میں کارپوریٹ سیکٹر ماہر یہ سمجھتے ہی کہ یہ کمپنیاں سات دسمبر دو ہزار پانچ  کے آس پاس قائم ہوئیں، یہ وہ تاریخ ہے جس دن عاصم باجوہ کی اہلیہ فرخ زیبا، فرخ زیبا کی بہن اسما زیبا اور عاصم باجوہ کے بھائی فیصل باجوہ پاکستان میں ٹیکس کیلیے رجسٹر ہوئے۔ کمپنیز ڈیٹا میں سلیم شہید ہسپتال کی وہ تاریخ دکھائی گئی ہے جس دن یہ ایف بی آر کے ساتھ ٹیکس کیلیے رجسٹر ہوا۔ باقی بانوے کمپنیوں کے قیام کی تاریخ انکی سرکاری دستاویزات سے ثابت ہوتی ہے۔

فرینچائز ویلیوشن
ایسے بہت سے زرائع ہیں جن سے ہمیں کسی ریسٹورنٹ کی فرینچائز  خر یدنے کی  کیلیئے درکار رقم کا پتا چل سکتا ہے۔اس کام کےلیئے فرینچائز ڈاٹ کام ایک مستند  ویب سائٹ سمجھی جاتی ہے۔ فرینچایز ڈاٹ کام کے مطابق پاپا جونز پیزا ریسٹورنٹ کی فرینچائز کیلیے تین لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری چاہیے۔ چھوٹے شہروں میں یہ لاگت کم ہو سکتی جبکہ بڑے شہروں میں کچھ زیادہ، کاروبار چلانے کیلیے بالکل ابتدائی سرمایہ کے علاوہ ابتدائی سال کیلیے کچھ مزید رقم بھی درکار ہوتی ہے مگر فیکٹ فوکس نے صرف ابتدائی سرمایہ کاری کی اوسط رقم کے حساب سے ہی سرمایہ کاری کی رقوم کا اندازہ لگایا اور اضافی اخراجات یا چند فرنچائزز کیلیے درکار زیادہ مالیت کو تصور نہیں کیا۔
باجکو گروپ نے  پچھلے اٹھارہ سالوں مین مجموعی طور پر ایک سو چوہتر فرینچائزز قائم کیں جن میں سے اس وقت ایک سو تینتیس آپریشنل ہیں۔ فیکٹ فوکس کے اندازے کے مطابق ان فرینچائزز کو قائم  کرنے کے لئے باون اعشاریہ دو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری درکار تھی۔ اس وقت آپریشنل فرینچائزز کی کل مالیت (نتالین اعشاریہ نو ملین ڈالر ہے۔

اگرچہ  فیکٹ فوکس نے امریکہ میں پائے جانےوالے باجوہ خاندان کے کاروباروں کے  تمام دستاویزی ثبوت حکومتی اداروں سے حاصل کر لیے لیکن پاکستان میں اس خاندان کے کاروباری اور مالیاتی حجم  کا حساب لگانے میں اس لیے  ناکام رہے کیونکہ پاکستان میں مالیاتی شفافیت کا نظام موجود نہیں۔

سیکورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کے پاس کریپٹون جو کہ مائننگ کے کاروبار سے منسلک ہے اور سائن بلڈرز کے نام سے چلنے والی دو کمپنیاں جو کہ تعمیرات  کے شعبہ سے وابستہ ہے اور اسلام آباد اور لاہور جیسے شہروں میں کثیر المنزلہ عمارات، بنگلے اور فارم ہاوسز تعمیر کرتی ہے، کی تفصیلات نہ تھیں۔ اگر یہ ممکن ہو جاتا تو ان کمپنیوں کے کاروباری حجم اورمالیت ان سالانہ گوشواروں سے آسانی سے حاصل کی جا سکتی تھی۔

پاکستان پبلک پروکیورمینٹ ریگولیٹری اتھارٹی  کے قیام کا مقصد ہی یہ تھا کہ سرکاری ٹھیکے دینے کے عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے تاہم اس ادارے نے آج تک ایسا کوئی ریکارڈ منظم انداز میں مرتب نہیں کیا جس کا نتیجہ یہ ہی کہ سرکاری اداروں سے حاصل کئیے گئے مختلف ٹھیکوں کی مد میں  مختلف کمپنیوں جتنے پیسوں کا کاروبار کرتی ہیں اس کا صحیح سے تخمینہ نہیں لگایا جا سکتا۔

ایف بی آر کسی بھی قسم کی شفاف ٹیکس رپورٹنگ یا سرکاری ریکارڈ  تک رسائی کے لیئے ایک مرکزی آن لائن ڈیٹا بیس فراہم نہیں کرتا۔  اگرچہ حکومتِ پاکستان نے   ٹیکس جمع کرانے والے  پاکستانی عوام اور پارلیمینٹیرینز کی ٹیکس ڈائیریکٹریز شائع کرتی رہی لیکن اب یہ سلسلہ بھی روک دیا گیا ہے۔ آخری ٹیکس ڈائریکٹری سال دوہزارسولہ-سترہ کے عرصے کی دو ہزار انیس میں جاری کی گئی۔ نتیجہ یہ ہی کہ آج پاکستان میں مالیاتی شفافیت اپنا وجود کھو بیٹھی ہے۔

Share and Enjoy !

0Shares
0 0